18 مئی 2012 - 19:30

صہيونی رياست کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کاسلسلہ اپنےعروج پر ہے۔

ابنا: فلسطینی علاقوں میں صہيونی رياست کی توسیع پسندانہ کاروائيوں پرعلاقائ اورعالمی سطح پرہونےوالےاحتجاجات سےیہ امرواضح ہے کہ صہيونی رياست کی جارحانہ اورتوسیع پسندانہ پالیسیوں کانیادورشروع ہوگیاہے۔عرب لیگ نے صہيونی رياست کےہاتھوں غرب اردن میں صیہونی کالونیوں کی تعمیر کےسلسلےکی مذمت کی ہے۔عرب لیگ کےجوائنٹ سکریٹری محمدصبیح نے قاہرہ میں ایک پریس کانفرنس میں صہيونی پارلیمنٹ کی جانب سے غرب اردن میں صیہونی کالونیوں کی تعمیرکےلئےبجٹ مختص کئےجانےکی مذمت کی ۔محمدصبیح نےمقبوضہ فلسطین میں صہيونی کالونیوں کی تعمیرکوغیرقانونی قراردیتےہوئےاسے تمام بین الاقوامی قوانین کےمنافی قراردیا۔عرب لیگ کےجوا‏ئنٹ سکریٹری نےمقبوضہ علاقوں میں بڑھتی ہوئی صہيونی کالونیوں اورانسانی حقوق کی پامالی کےخلاف عالمی برادری کی جانب سےسنجیدہ موقف اختیارکئےجانےپرتاکیدکی۔صہيونی پارلیمنٹ نے ابھی حال ہی ميں غرب اردن میں صیہونی کالونیوں کی توسیع کےلئےگیارہ ملین کی رقم مختص کی ہے۔صہيونی کالونیوں کی توسیع پرمبنی صہيونی رياست کااقدام ایسےعالم میں جاری ہےکہ اقوام متحدہ کی قرارداد کےمطابق صہيونی رياست کوفلسطینی علاقوں میں نہ صرف یہ کہ ہرطرح کاتعمیراتی سلسلہ بند کردیناچاہئےبلکہ اب تک تعمیرکی جانےوالی تمام کالونیوں کوبھی ڈھادیناچاہئے۔صہيونی رياست مقبوضہ علاقوں میں کالونیوں کی تعمیرکےساتھ ہی غرب اردن کےمختلف علاقوں میں فلسطینیوں کی زمینوں پربھی قبضہ کررہی ہے اوران کےاستعمال کوبدل کران علاقوں میں فوجی اڈے قائم کررہی ہے۔ صہيونی رياست نےاعلان کیاہےکہ وہ جنوبی الخلیل میں فلسطینیوں کےپرائمری اسکول کوجسےاسرائیلی فوجیوں نےبند کرادیاہے ، ڈھا کر جلدی ہی وہاں ایک فوجی اڈہ قائم کرنےوالی ہے۔صہيونی رياست ہمیشہ ہی اس کوشش میں رہی ہےکہ مختلف طریقوں سے اپنےزیرتسلط علاقوں پراپناقبضہ بڑھاتی رہے۔صہيونی رياست انیس سواڑتالیس کےبعد سےاب تک فلسطینیوں کےگھروں ، مسجدوں ، اوراسکولوں پرقبضہ کرکےانھیں ڈھادینےکی پالیسی اختیارکئےہوئے ہے تاکہ فلسطینی علاقوں کی آبادی کےتانےبانےکوصہيونیوں کےحق میں تبدیل کردے۔فلسطینیوں کےعلاقوں پرقبضہ اوران کےگھروں سےانھیں بےدخل کرنا صہيونی رياست کےایجنڈےمیں ہے۔صہيونی رياست  فلسطینی زمینوں پرصہيونی کالونیاں تعمیرکرکے اورفلسطینی علاقوں کوایک دوسرےسےالگ کرکےخودمختارفلسطینی مملکت کےقیام کوروکناچاہتی ہے۔صہيونی رياست کی کالونیوں میں توسیع میں تیزی امریکی حکام سےمذاکرات کےساتھ انجام پارہی ہے جس سےپتہ چلتا ہے کہ یہ امریکی حکومت کےاشارےپرہورہاہے۔ صیہونی وزیرجنگ ایھود باراک توسیع پسندانہ پالیسیوں کےسلسلےميں امریکی حکام سےصلاح مشورہ کررہےہیں اوراپنی توسیع پسندانہ اورجنگ پسندانہ پالیسیوں کوآگےبڑھانےکےلئےمزید مدد حاصل کرنےکی کوشش کررہےہيں۔صہيونی رياست کےتوسیع پسندانہ اقدامات نےخطرناک رخ اختیارکرلیاہےجس کےخلاف عالمی رائےعامہ نے شدیدردعمل ظاہرکیاہے۔........

/169